ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مٹھوں کے سوامیوں کی طرف سے اپنی ذات والوں کےلئے ٹکٹ کا مطالبہ : سیاسی پارٹیاں پیچیدگی کا شکار

مٹھوں کے سوامیوں کی طرف سے اپنی ذات والوں کےلئے ٹکٹ کا مطالبہ : سیاسی پارٹیاں پیچیدگی کا شکار

Tue, 28 Feb 2023 20:09:55    S.O. News Service

کاروار:28؍ فروری (ایس اؤ نیوز )اترکنڑا ضلع میں سیاسی پارٹیاں ، خاص کر بی جےپی اس وقت تذبذب کا شکار ہے۔ ضلع کےکئی ایک ودھان سبھا حلقوں میں اہم اور چھوٹے طبقات سے منسلک سوامیوں نے پارٹیوں پر دباؤ بنایا ہواہےکہ وہ اپنے حمایتیوں کو پارٹی سے ٹکٹ دیں۔ سیاسی پارٹیوں کےلئے یہ مانگ گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔

ویسے دیکھا جائے تو یہ صرف اترکنڑا ضلع تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاست بھر میں سوامیوں کی ایسی مانگ ہورہی ہے۔ لیکن اترکنڑا ضلع میں  بے شمار  بھگتوں  پر مشتمل بڑے بڑے مٹھ اس میں شامل ہونے سے نہ نگلے بنے نہ اگلے بنے  کی کیفیت ہے۔ بقیہ مقامات پر سوامیوں نے اپنے حمایتیوں کےلئے ٹکٹ کا مطالبہ کیا ہے تو ہلیال میں ایک سوامی جی نے خود کو بی جےپی کے امیدوار کی حیثیت سےاعلان کیاجانا کئی شکوک کو جنم دے رہاہے۔ یعنی کیا یہ ایک سیاسی چال ہے یا پھر واقعی سوامی جی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے دیکھنا ہوگا۔

اترکنڑا ضلع میں کم سے کم دو بااثررائے دہندگان والے بڑے طبقات کی حمایت میں پرزور مطالبہ کیاجارہاہے تو چھوٹے طبقات سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 6مٹھوں کے سوامیو ں نے اپنے حمایتیوں کو ٹکٹ دینے پر زور دے رہےہیں۔ ان میں کمٹہ حلقہ کی بات کریں تو اس حلقہ پر کئی ایک مٹھوں کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ اسی حلقہ سے ہمارے سماج والوں کو ٹکٹ چاہئے اور اس کےلئے سوامی جی  بھرپور کوشش میں بھی ہیں۔

سیاسی دباؤ کے چلتے سیاسی پارٹیاں کافی سوچ بچار میں مصروف رہتی ہیں ایسے میں سوامیوں کی طرف سے مطالبہ اور کوششیں سیاسی پارٹیوں اور کارکنان کےلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔ اگر ان مٹھوں ، سوامیوں کے دباؤ کی پرواہ نہ کرتےہوئے اپنوں کو ٹکٹ دیاجاتاہے یا پھر کسی اور طبقے کے فردکو امیدوار بنایاجاتاہے تو سیاسی پارٹیوں کو یہ خوف بھی ستا رہاہےکہ کہیں  سوامی جی ناراض ہوکر پارٹی کےخلاف نہ ہوجائیں ۔

حقیقت میں ان سوامیوں کا تعلق کسی بھی پارٹی سے نہیں ہوناچاہئے۔ کیونکہ ہر پارٹی میں سوامیوں کو چاہنے والے اور بھگت ہوتےہیں۔ اکثر سیاست دان اور عوامی نمائندے جب بھی موقع میسر آتاہے ان مٹھوں اور سوامیوں کے سامنے دوزانو ہوتے رہتےہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر ٹکٹ کے خواہش مندان سوامیوں سے ملاقات کرتےہوئے ٹکٹ کےلئے سفارش کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان حالات میں سوامی بھی پیچیدگی کا شکار ہوکر مجبوری میں سیاسی لیڈران کو فون کے ذریعے اپنے حمایتیوں کو ٹکٹ دینے کےلئے سفارشات کررہے ہیں۔

ان میں سے کئی اعلیٰ طبقات اور اوبی سی طبقات کے ووٹرس ہونا کافی اہمیت رکھتاہے۔ کمٹہ حلقہ میں ضلع بھر میں اپنے اثرات رکھنے والے ایک مٹھ کے سوامی جی نے  کانگریس کی جانب سے اپنے ایک خواہش مند شخص کو ٹکٹ دینے کی بات رکھتےہوئے کہاہےکہ اگر ان کو ٹکٹ دیاجاتاہے تو نہ صرف ان کی حمایت کی جائےگی بلکہ اترکنڑا ضلع میں بھی اپنے اثرات کا استعمال کرنے کی لالچ دی ہے۔

سوامیو ں کے سیاسی مطالبات کی وجہ سے پارٹیوں کے اصلی کارکنان میں تشویش دیکھی جارہی ہے۔کارکنان کا سوال ہے کہ  زندگی بھر پارٹی کےلئے محنت کرنےوالوں کو نظر انداز کرتےہوئے آخری وقت میں مٹھوں کے سوامی اس طرح مداخلت کرکے اپنے حمایتیوں کےلئے ٹکٹ کی مانگ کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟ ۔ لیکن ان کی دکھڑے کو سننے کےلئے کسی  بھی سیاسی پارٹی کا لیڈر تیار نہیں ہے۔ لیڈران مٹھوں کے سوامیوں کے پیر چھوتے ہوئے ، اپنے کارکنوں کو خوش کرنے والی دہری چال چل رہے ہیں گویا دوکشتیوں پر سوار ہوتےہوئے ایک طرح سےسرکس کررہے ہیں۔ اگر امیدوار بہت ہی مضبوط اور مستحکم ہے اور مٹھ کی سفارش بھی ہے توا سی کو شارٹ لسٹ کرنا ممکن ہے۔متعلقہ مٹھوں کے سوامی انتخابات میں اپنے حمایتیوں کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب ہوتےہیں تو ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہی سوامی اپنے طبقات کے سبھی ووٹ متعلقہ امیدوار کے حق میں ڈلوانے میں کامیاب ہونگے؟۔ اور اپنے طبقے کے شخص کو پارٹی ٹکٹ نہیں دئیے جانے پر ، کیا اپنی مانگ سے انکار کئے جانے کے خلاف امیدوار کو شکست دینے میں ان سوامیوں کا اثر کام کرے گا ، انتظار کیجئے ۔

ڈبل گیم کی سیاست: یہاں تعجب خیز بات یہ ہےکہ ضلع کےکم سےکم دو حلقوں سے چند مٹھوں کے سوامیوں نے کانگریس اور بی جےپی دونوں پارٹیوں سے اپنی حمایتیوں کےلئے ٹکٹ کا مطالبہ کرتےہوئے کوشش کررہےہیں۔ ان میں سے کسی ایک پارٹی نے بھی اپنے حمایتی کو ٹکٹ دیا تو اسی کا بھر پورتعاون کرنے کی ایک سیاسی چال کہی جارہی ہے۔وہیں ایک سوال بھی عوام کے ذہنوں میں پیدا ہورہاہے کہ  اس طرح دونوں سیاسی پارٹیوں کےلیڈران پر دباؤ بناتے ہوئے ٹکٹ حاصل کرنےکی سیاسی چال کس حد تک اخلاقی طورپر صحیح ہے ؟۔اگر سوامیوں کے دباؤمیں  کانگریس اور بی جےپی دونوں پارٹیوں نے سوامی کے سفارش کردہ امیدوار  کو ہی ٹکٹ دے دیا تو ان حالات میں سوامی کیا کریں گے ؟ اس کی بھی وضاحت نہیں ہوئی ہے۔ان مٹھوں اور سوامیوں کو  ذات پات ، طبقات سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہئے تھا لیکن یہی مٹھ اور سوامی اپنی ذات والوں کےلئے سبھی پارٹیوں میں ٹکٹ کے لئے کوشش کرنا افسوسناک کہاجارہاہے۔


Share: